27/10/2026
اکثر لوگ عمرہ پر جانے کے بعد شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا ہوٹل حرم سے بہت دور تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی بار دور ہوٹل کا انتخاب وہ خود ہی کرتے ہیں۔
کچھ دن پہلے ایک گروپ کے ساتھ میری عمرہ پیکیج کے حوالے سے بات چیت چل رہی تھی۔ میں نے انہیں پہلے ہوٹلوں کے نام بتائے، پھر حرم سے ان کا فاصلہ بھی واضح کیا، تاکہ وہ مکمل معلومات کے ساتھ فیصلہ کر سکیں۔
لیکن انہوں نے کہا کہ آپ کا پیکیج دوسرے ایجنٹ کے مقابلے میں 15,000 روپے مہنگا ہے۔
میں نے پوچھا کہ دوسرا ایجنٹ آپ کو کون سے ہوٹل دے رہا ہے؟
ان کا جواب تھا: "ہوٹلوں کے نام تو نہیں بتائے، لیکن کہہ رہا ہے کہ حرم سے فاصلہ آپ کے بتائے ہوئے ہوٹلوں سے کم ہوگا۔"
اب مجھے اندازہ ہے کہ وہاں پہنچ کر انہیں کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لیکن میری نظر میں اس معاملے میں صرف ایجنٹ قصوروار نہیں، بلکہ اس گروپ کی اپنی بھی غلطی ہے۔
کیونکہ جب آپ ہوٹل کا نام، اس کی لوکیشن اور حرم سے اصل فاصلہ معلوم کیے بغیر صرف سستے پیکیج کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے، تو بعد میں شکایت کس بات کی؟
میرا مقصد یہ نہیں کہ مہنگا پیکیج ہی اچھا ہوتا ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ فیصلہ قیمت دیکھ کر نہیں، مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں! عمرہ ایک مقدس سفر ہے، اس لیے پیکیج بک کروانے سے پہلے ہوٹل کا نام، لوکیشن اور حرم سے فاصلہ ضرور چیک کریں۔